تازہ ترین خبریں

جوہری معاہدہ سے امریکی فرار عالمی بحران کا پیش خی.

عالم اسلام اچھی طرح واقف ہے کہ استعمار ایران کے جوہری پروگرام سے خوفزدہ نہیں ہے ،کیونکہ...

اتحاد امت کی جانب توجہ ایمان کا حصہ ہے،سوشل نیٹ ور.

سرینگر/آج امت مسلمہ انتہائی نازک دور سے گذر رہی ہے، لیکن بعض تنگ ظرف خطیبوں اور منچلے...

نام نہاد خطباء کا منبر کو تفرقہ پھیلانے کیلئے است.

سرینگر/ انجمن نصرۃ الاسلام کے زیر اہتمام کشمیر کی قدیم تعلیمی دانشگاہ نصرۃ الاسلام...

شادی کی تقاریب میں دولات کی نمائش۔۔۔قرآنی احکامات کی خلاف ورزی،سماجی خرافات اور نئی بدعات کی روکتھ.

سرینگر/’شادی کی تقاریب کے دوران دولت کی نمائش ‘کے چلتے’ بژھ پورہ ، حیدر پورہ اور ہمہامہ میں صرف وازوان اور سجاؤٹ کروڑوں روپے خرچ ‘کئے گئے ۔متعلقہ قوانین کوسخت اورایسے سرمایہ داروں کا سماجی بائیکاٹ کرنے پر زور دیتے ہوئے سنجیدہ فکراشخاص نے خبردارکیاکہ شادی کی تقاریب کے دوران نمود و نمائش اوربے تحاشہ خرچہ جات غریب کنبوں کی لڑکیوں کے ہاتھ پیلے ہونے میں تاخیرکی بنیادی وجہ بن چکی ہے ۔ادھر میر واعظ عمر فاروق نے سماجی خرافات اور نئی بدعات کو انتہائی افسوناک قراردیتے ہوئے اعلان کیا کہ 11ستمبربروز جمعۃ المبارک سے سماجی بدعات کے خلاف منظم مہم کا آغاز کیا جائے...

۱۴مئی۲۰۱۸

جوہری معاہدہ سے امریکی فرار عالمی بحران کا پیش خیمہ .

عالم اسلام اچھی طرح واقف ہے کہ استعمار ایران کے جوہری پروگرام سے خوفزدہ نہیں ہے ،کیونکہ ایران پہلا ملک نہیں ہے جو نیوکلیائی طاقت کا حامل بنا ہے۔امریکہ کو یہ ڈر ستا رہاہے کہ جو ملک بغیر جوہری طاقت کے ہماری گیدڑ بھبکیوں سے نہیں ڈرا وہ جوہری طاقت حاصل کرنے کے بعد ہماری دھمکیوں سے کیا ڈرے گا۔چلئے مان لیتے ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن نہیں ہے ،تو امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جوہری طاقت کے حصول کے بعد دنیا کے لئے کونسا امن و آشتی کا فارمولہ پیش کیاہے۔ عادل فراز ایران جوہری معاہدہ سے امریکہ کا فرار ہونا تعجب خیز نہیں ہے۔ہمیں اس کا اندازہ تبھی ہوگیا تھا...

۱۶اپریل۲۰۱۸

آصفہ عصمت دری:منٹوخاموش کیوں ہو؟.

منٹو ! تم نے ایسے وحشی درندے نہیں دیکھے ہونگے جن کے چہروں پر ’’وطن پرستی ‘‘ اور قومی پرچموں‘‘کانقاب پڑا ہو۔تم نے صرف وحشیانہ ماحول دیکھا تھا مگر زعفرانی غنڈوں کی خونی ہولی نہیں دیکھی۔قاتلوں کی سیاسی پزیرائی کا ڈرامہ نہیں دیکھا۔تم نے کبھی کسی واقعہ کو مذہب اور فرقہ کی عینک لگاکر نہیں دیکھا کیونکہ تم تخلیق کار تھے۔ادب تمہاری رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہا تھا۔تم ایک سچے فنکار تھے مگر اب تو ہر معاملہ کو مذہب اور فرقہ پرستی کی عینک لگاکر دیکھا جاتا ہے۔منٹو یہ عظیم حقیقت ہے کہ آصفہ مسلمان تھی اس لئے قاتل آزاد ہیں۔نربھیا ہندو تھی اس لئے اسکی حمایت میں جلوس نکالے...

۱۶اپریل۲۰۱۸

آصفہ قتل کیس اوروکلاء کی شرمناک حرکت.

وکلاء کااحتجاج کرنااورجموں بندکی کال دیناتب صحیح قراردیاجاتا اگراس کیس کوکرائم برانچ حل کرنے میں ناکامیاب رہتی۔ اب چوں کہ ملزم قانون کے شکنجے میں پھنس چکے ہیں اورانہوں نے اقرارجرم بھی کردیاہے اس لیے وکلاء کااحتجاج بے سودہوکر رہ جاتاہے۔بہترہوتااگریہ وکلاء ریاست اورخاص کرکشمیرمیں پھیلی ہوئی بدامنی کے خلاف احتجاج کرتے۔ایساکرنے پرشاید کسی کولگتاکہ کوئی توہے جوظالموں کے خلاف احتجاج بلندکررہاہے لیکن آصفہ عصمت ریزی کے مجرموں کے حق میں احتجاج کرنے کاکوئی جوازہی نہیں بنتا۔ از قلم:پروفیسرشہاب عنایت ملک
ٓآصفہ قتل اورعصمت ریزی کیس نے پوری انسانیت کواس...